حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان سردار حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور اگر امریکہ رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ بند کرکے طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی طرف واپس آتا ہے تو اس معاہدے کے دائرے میں آبنائے ہرمز کھولا جا سکتا ہے، تاہم امریکہ کو پہلے ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔
اصفہان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت خلیج فارس میں دشمن کا کوئی فوجی بحری جہاز موجود نہیں ہے اور تمام جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر دور چلے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی ملکیت ہے اور اس کے آبی راستے سے کسی بھی بحری جہاز کی آمدورفت ایران کی اجازت اور نگرانی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ایران اور عمان نے تقریباً ایک ماہ قبل مذاکرات کیے تھے، جن میں آبنائے ہرمز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں دونوں ممالک کے حصے سے متعلق امور پر اتفاق ہوا تھا۔
سردار محبی نے الزام عائد کیا کہ امریکہ اس عمل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، جس کے باعث معاملات میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکہ رکاوٹیں ختم کرکے مفاہمت کی طرف واپس نہ آیا اور ایران کی شرائط تسلیم نہ کیں تو آبنائے ہرمز کسی صورت نہیں کھولا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ